Friday, May 31, 2013

شخصیت پسندی اور جدت پسند



شخصیت پرستی اورمرعوبیت بھی دراصل پستی وغلامی کا ایک شاخسانہ ہے جس میں آدمی کی عقل وخرد اپنا کام کرنا چھوڑ دیتی ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی شخصیت چاہے وہ کتنی ہی عظیم ہو اگر ہم اسے انسان کہتے ہیں اور اس کے لیے کوئی ماورائی رہنمائی سے انکاری ہیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ غلطیوں سے مبرا نہیں اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ نسیان وخطا سے دامن نہیں بچا سکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شخصیت کی ہر بات کو سند قبولیت دے دی جائے اور صرف یہی نہیں بلکہ جو اس کی مطلوبہ حیثیت تسلیم نہ کرے اس کے خلاف تیر وتفنگ لے کر حملہ کردیا جائے ۔
پچھلےدوتین سو سالوں میں امت اسی ذہنی غلامی وپستی اور مرعوبیت  کا شکار ہے ۔ اور اس غلامی میں نرے قدامت پسند ورجعت پسند ہی نہیں بلکہ وہ طبقے بھی ہیں جو روشن خیال ہیں اور جدت وتغیر جن کا شعار ہے ۔ اس دورِ پستی میں جو ابھی تک جاری ہے عموما یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ دین پسند طبقہ قدامت پسند ہے رجعت خیالی کا علمبردار ہے اور پنے مسلکی ، مذہبی اور مخصوص شخصیت کے گرد بنے ہوئے خول سے باہر آنے کو تیار نہیں ۔ اس بات میں کسی قدر وزن بھی ہے ۔ لیکن افسوس اس پر ہے کہ اس الزام کو  صرف انہیں ہی پر کیوں  چسپاں کیا جائے اور روشن خیالی کے علمبرداروں کو صرف ان کے کھوکھلے نعروں کے باعث بخش دیا جائے ۔
ہم  صرف برصغیر بلکہ عالم اسلام کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغرب نواز جدت پسند عناصر نے جتنا شدت کے ساتھ شخصیت پسندی ،اندھی تقلید اور مرعوبیت کا ثبوت دیا ہے مذہبی طبقہ اس معاملے میں ان کا کسی طور سے ہم پلہ نہیں ۔ پھر یہ پہلو بھی اہم ہے مذہبی پس منظر میں برداشت ، تحمل اور رواداری کا عنصر کسی نا کسی حد تک نظر آتا ہے لبرل ازم کے دعوے دار اس سے بھی محروم ہیں ۔
بات کہاں سے شروع کی جائے  ۔ ۔ ۔ ! کمال اتا ترک سے  یا سرسید احمد خان سے ۔۔۔! یا پھر پرویز مشرف سے یا موجودہ پاکستانی سیاست میں لبرل ازم کے دعوے دار لیڈروں سے ۔
کمال اتاترک ،آزادخیالوں اور جدت پسندوں کا بابائے قوم ہے ۔ ممکن ہے آج اس کی فکری پود اپنے جد امجد سے واقف نہ ہو ۔ یا پھر اس کی حرکتوں سے ،  موصوف تبدیلی اور عروج کےسب سے پہلے علمبردار تھے اور ترک قوم ان کی دیوانی ،اور اپنے اس دیوانے پن میں انہوں نے اسے قریب قریب دیوتا کا درجہ دیا ۔ اور اس کی کسی مخالف بات کو دل ودماغ میں جگہ نہ دی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس روشن خیالی اور مرضی سے جینے کے دعوے داروں نے عورتوں کے سروں سے چادریں نوچ لیں ، ترکی ٹوپی اچک کر انگریزی ہیٹ پہنادیا گیا ، اذان کو عربی  میں ادا کرنا ممنوع قرار پایا ۔ اور ایک لمبی فہرست ہے کہ کس طرح  ایک شخصیت نے ایک پوری قوم کا حلیہ بگاڑ دیا ۔ مخالفوں کو اس طرح سرِدار لٹکایا گیا جس طرح جنگِ آزادی کے لیڈروں کو برطانیہ نے لٹکایا تھا، لیکن کسی کے سرپر جوں نہ رینگی ۔شخصیت پسندی کا جادو سرچڑھ کر بولا ۔
سرسید احمد خان برصغیر کے مخصوص حالات کے باعث وہ مقام تو حاصل نہ کرپائے لیکن انہوں نے اپنی مرعوبیت کے باعث قوم وملک کو جتنا نقصان پہنچایا آج پاکستان میں موجود منافقت ، مغربی غلامی اور دریوزہ گری کی جو صورتحال ہے اس سے انہیں کسی طور سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ کیوں کہ پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر موجود تما م بیوروکریسی کسی نہ کسی طور سے علی گڑھ کے اثرات کی حامل ہے جو انہیں اپنے آباءواجداد سے ملے ہیں ۔
سرسید احمد خان اس مغرب سے اس درجہ مرعوب ہوئے کہ انہوں نے مسلمانوں کو کھانے تک میں چھری کانٹے استعمال کرنے کی تلقین کی کہ شاید اسی طریقے سے قوم ترقی کے زینے طے کرے لیکن ہوا کیا ۔۔۔۔!  قوم  آج جن کے چھری کانٹے سے کھانا کھاتی ہے  انہیں کے کہے پر چلتی ہے حالانکہ  سرسید قوم کوان کے مقابل ویسا ہی ترقی یافتہ بنا نا چاہ  رہے تھے ۔ کوئی پوچھے کہ جناب سرسید احمد خان کا خواب کیا تھا اور آج ان کے روشن وآزاد خیال پیرو کہاں ہیں ۔۔؟  اگر جدت پسندی اور تغیر وتبدل چھری کانٹوں کی تبدیلی کا نام ہے تو پھر ایسی جدت سے پرے ہی بھلے ۔  لبرل ازم کے دعوے دار اور فکرسرسید کے علمبردار ان کے الفاظ کو سینے سے لگائے اس پر دل وجان سے عمل پیرا ہیں نتائج وعواقب کی کسے پروا ہے ! 
اور جہاں تک بات ہے موجودہ دور کی تو اب  جدت پسندوں اور روشن خیالوں کی  شخصیت پسندی صرف پسند بن گئی ہے شخصیت  البتہ تبدیل ہوتی رہتی ہے گویا کہاں وہ عہد وفاداری اور کہاں یہ دوری وبیزاری ۔۔۔۔  پرویز مشرف بزعم خود خاموش اکثریت کی پسندیدہ شخصیت تھے  اور اس احساس کا شکار ہو کر انہوں نے اپنے روحانی قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کئی کارہائے نمایاں انجام دیے جو ملکی تاریخ کا  سیاہ باب ہیں ۔لیکن ان کے جانے کے بعد پسندیدگی کا ہما اب کسی اور کے سرپر جابیٹھا ہے ۔ کہاجاسکتا ہے کہ جدت پسندوں نے ترقی کرلی اور اب وہ شخصیت کا شکار نہیں  حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اب جدت پسندوں کے پاس کو ئی کمال اتاترک تو کجاپرویز مشرف جیسا بھی فرد نہیں جو اپنی پسندیدگی کے زعم میں گرفتار ہو ۔ اور نہ ہی سرسید احمد خان جیسا علم وتحقیق کے میدان کا آشنا ۔ لہذا فی الوقت تو مغرب سے آنے والی ہوائیں ہی ان کے لیے پیغام امید ہیں سنتے ہیں کہ اب وہ بھی نامناسب آب وہوا  کے باعث اپنا رخ بار بار بدلتی رہتی ہیں ۔ جب کہ خبر یہ بھی ہے کہ موجودہ انتخابات میں کسی پر  جدت پسندوں کی پسندیدگی کا ہما بیٹھا  تو ہے  ع  دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔ 

No comments: