Saturday, October 6, 2012

استاد کی نظر

عظمت شیخ

انٹرویو :اختر عباس

ماخوذ اردو ڈائجسٹ 

عظمت شیخ بھی خوب آدمی ہیں۔ ایک زندگی میں کئی زندگیاں جی چکے۔ ان کی شخصیت کے کتنے ہی حوالے ہیں۔ کبھی یہ تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے۔ کبھی لااُبالی فوٹوگرافر، کبھی کویت حکومت کے سرکاری فوٹوگرافر بنے تو کبھی شاہ فیصل اور شیخ زید کے پورٹریٹ بنا کر انعام پانے والے۔ ایک زمانے میں کویت میں پریس لگا کر پرنٹنگ کا باکمال کاروبار بھی کرتے رہے۔ مگر ان کے دو تعارف ایسے ہیں جو انھیں بہت عزیز ہیں۔ ایک عالم اسلام کے پہلے فوٹوگرافر ہونے کا جس نے حرمین شریفین کی رنگین منظرکشی کی اور یوں ان کی اُتاری ہوئی تصاویر آنے والے چالیس سالوں میں کروڑوں کی تعداد میں دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ کویت پر عراق کے قبضے کے بعد پاکستان واپس آئے۔
اب وہ فوٹوگرافر اور بزنس مین نہ تھے بلکہ مسجد شانِ اسلام گلبرگ کی خدمت کرنے والے اور غالب روڈ پر ایک ایسے گھر کے مکین جس کے دروازے پر لکھا تھا ’’اللہ دا فقیر۔‘‘ شفیع ٹینریز کے جناب نعیم احمد سے نوائے وقت کے مجیدنظامی صاحب تک سبھی ان سے محبت اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ انھیں تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لینے پر گولڈمیڈل سے بھی نوازا گیا۔ وہ اُردو کی ایک بے حد عمدہ کتاب ’’دعا دیتا ہوں رہزن کو‘‘ جو ان کی آپ بیتی ہے، کے مصنف بھی ہیں۔ میں نے انھیں گزشتہ ۲۲ برس سے ایک شکرگزار، رب سے جڑا ہوا اور شدید مہمان نواز پایا۔
اس ملاقات کا حوالہ صرف اگست ہے، اس لیے حرمِ پاک کی منظرکشی کے خواب سے تصویر کشی کی بمشکل اجازت ملنے اور روتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے لٹک کر تصاویر اتارنے تک کی دلچسپ اور حیران کن تفصیلات پھر کسی موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے انھیں واپس بلوا کر پاکستان کی حسین وادیوں کی فوٹوگرافی ان سے کرائی۔ جن پر مشتمل ۲ کتابیں انگریزی میں طبع ہوئیں۔ ان دنوں اپنی شدید علالت کے باوجود انھوں نے ۲ نشستوں میں اپنی یادوں کو تازہ کیا۔ ان کی باتیں کتنی ہی حیرتیں لیے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا تھا منظر ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور وہ اُنھیں دیکھ کر بتائے اور تفصیل سنائے جاتے ہیں…
سوال: آپ کے آبائو اجداد تو کشمیر کے تھے۔ یہ جلالپورجٹاں کیسے پہنچ گئے؟
جواب: شیخ نبی بخش ہمارے دادا تھے۔ اپنے کاروبار کے سلسلے میں کشمیر سے جلالپور آنا ہوا تو نہ جانے یہاں کی کیا چیز بھا گئی کہ جنت نظیر وطن کو بھول کر یہیں کے ہو رہے۔ یہیں شیخ رسول بخش، شیخ میراں بخش، شیخ الٰہی بخش اور ۹ جولائی ۱۸۹۶ء کو ان کے ہاں چوتھے بیٹے شیخ فیض بخش کی پیدایش ہوئی۔ فیض بخش بڑے ہو کر اسم بامسمیٰ ثابت ہوئے۔ خلقِ خدا کو جانی، مالی اور زبانی فیض رسانی تمام عمر ان کا مقصد ِزندگی رہی۔ دوسروں کے لیے دردمندی، دردآشنائی ان کی فطرتِ ثانیہ تھی اور وہ ’’دردِدل کے واسطے پیدا کیا انسان کو‘‘ کی عملی تفسیر تھے۔
سوال: آپ کے والدصاحب سنا ہے کافی سوشل تھے اور سیاسی طور پر بھی بہت سرگرم تھے؟
جواب: میں نے ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ خاندان کے بزرگ کپڑے کے تاجر تھے۔ اباجی بھی کاروبار کرتے تو تھے مگر انھوں نے اس کو کبھی بھی کل وقتی اہمیت یا توجہ کے قابل نہیں سمجھا تھا۔ ان کا اوڑھنا، بچھونا خدمتِ خلق اور سماجی کام تھے۔ اباجی کو غصے یا طیش سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ بے حد متحمل اور ٹھنڈے مزاج کے مالک تھے۔ اماںجی اور اباجی کی طبیعتوں میں درویشی، سخاوت اور دوسروں کے لیے بے پناہ ہمدردی اور اخلاص موجود تھا۔ مہمانوں کی میزبانی کے بھی بہت شوقین تھے۔ دوسروں کے مسائل حل کرنے کے لیے فراغت اور یکسوئی میسر تھی۔ رفتہ رفتہ یوں ہونے لگا کہ ان کی توجہ کاروبار اور گھر میں کم اور سماجی کاموں میں زیادہ رہنے لگی حتیٰ کہ ہمارے مالی حالات پر اثر پڑنے لگا۔ اباجی کا ہم سے رویہ خاصا نرم اور دوستانہ تھا۔ ہمارے درمیان شیر بکری والے تعلقات نہ تھے۔ جیسا کہ اکثر گھروں میں ہوتا ہے۔
سوال: اپنی ابتدائی تعلیم اور سکول کے حوالے سے کیا کیا یاد ہے؟
جواب: میں اسلامیہ ہائی سکول میں داخل تھا۔ یہ سکول جلالپورجٹاں کے باشعور عوام کی طرف سے ہندوئوں کے سناتن دھرم ہائی سکول کے جواب میں کھولا گیا تھا۔ مجھے آرٹ سے دلچسپی تھی۔ پڑھائی کے بارے میں خاصا غیرذمے دار تھا۔ ہوم ورک بعض اوقات کرتا ہی نہیں تھا۔ کبھی دل چاہتا تو چھٹی کر لیتا۔ انگریزی کے ماسٹر خاصے سخت تھے۔ انھوں نے میری سیٹ اپنی میز کے آگے لگوائی ہوئی تھی۔ یقینا وہ مجھے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ میں لاپروا، کھلنڈرا سا بچہ تھا۔ ایک روز کسی بات پر ماسٹرحکیم صاحب نے مولابخش استعمال کرلیا۔ میں نے گھر آ کر امی سے کہا۔ اباجی آئے تو امی کہنے لگیں ’’آپ نے عظمت کی بات سنی؟ ماسٹر صاحب نے اس کی پٹائی کی ہے۔ آپ صبح ہی جا کر انھیں بتا دیں کہ ہمارا اپنا کاروبار ہے، ہمارے بچوں نے ملازمت نہیں کرنی۔ وہ بچوں کو مارا نہ کریں ویسے ہی پڑھایا کریں۔‘‘
دوسرے دن اباجی سکول گئے اور سیدھے میری کلاس میں جا پہنچے۔ ماسٹرصاحب نے باآوازِبلند پکارا ’’کلاس سٹینڈ۔‘‘ ساری جماعت کھڑی ہو گئی۔ اباجی نے ماسٹرحکیم سے بات کی کہ بچے کو مارے بغیر پڑھایا کریں۔ اس نے گھر میں شکایت کی ہے۔ ماسٹرصاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے جی! نہیں ماریں گے۔ والد صاحب کے جانے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے ’’عظمت! بستہ اٹھائو اور اُدھر کونے میں چلے جائو۔‘‘ ساتھ ہی مزید کہا ’’عظمت! میں مر جائوں گا تو بھی مجھے یاد کرو گے۔‘‘
اس وقت شعور نہیں تھا مگر اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کا میری نشست بدل دینا معمولی بات نہیں تھی۔ انھوں نے کلاس میں میری جگہ تبدیل نہیں کی تھی بلکہ اپنی ترجیحات بدل لی تھیں۔ پہلے جو غیراعلانیہ سی اہمیت اور توجہ وہ مجھے دیتے تھے، اس کی وجہ سے مجھے اپنے سامنے بٹھاتے تھے تاکہ میں ان کی نظروں میں رہوں۔ روک ٹوک کرتے، مارپیٹ بھی لیتے تھے شاید محض اس لیے کہ وہ مجھے ویسا بناسکیں جیسا دیکھنا چاہتے تھے۔ اباجی کے کلاس میں آنے اور مارنے سے منع کرنے پر یقینا انھوں نے محسوس کیا ہوگا کہ وہ اپنی توجہ اور محنت غلط جگہ پر لگا رہے ہیں، چنانچہ انھوں نے فوری طور پر میری جگہ بدل ڈالی۔ ان کا یہ جملہ ’’مر گیا تو بھی مجھے یاد کرو گے‘‘ آج بھی میرے کانوں میں تازہ ہے۔
واقعی! وہ مر گئے ہیں اور میں پھر بھی انھیں یاد کرتا ہوں۔ جب جب اپنی تعلیم کی کمی کا احساس ہوتا ہے، میں انھیں یاد کرتا ہوں۔ بلکہ میں یاد کرتا نہیں، وہ خود ہی مجھے یاد آتے ہیں۔ آج، اتنا وقت گزر گیا، اتنی عمر بیت گئی، حالات بدلے، دن رات بدلے، دنیا دیکھی، زندگی ہر پہلو، ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ زندگی نے کئی رُخ بدلے، کئی موڑ مُڑے، کئی ادوار دیکھے مگر یہ کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی۔ آج بھی جب کہ خدا نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے، یہ افسوس دل سے نہیں گیا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرسکا۔
سوال: اس دکھ کا اظہار اور احساس کبھی کبھار دوستوں سے اور اپنے بچوں سے بھی کیا؟
جواب: اب اپنے تجربے کی بنا پر دوسروں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے لاڈ ضرور اُٹھائیں، پیار ضرور دیں… مگر تعلیم کی قیمت پر نہیں! استاد کے خلاف بچے کی کوئی بات نہ سنیں۔ استاد کے مقام کو پہچانیں، وہ آپ کے بچوں کو زمین سے اُٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک لے جاتا ہے۔ وہ ایسی معمولی ہستی نہیں ہے کہ بچے کی فرمایش پر یا شکایت پر آپ اس کا مقدمہ لڑنے جا کھڑے ہوں۔ اس کے طرزِتدریس اور طریقۂ کار میں دخل انداز ہونے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے استاد کے مرتبے اور مقام کو پہچانا اور مانا، تاریخ نے انھیں بڑا مقام دیا ہے۔ باب العلم حضرت علیؓ نے فرمایا ’’جس شخص نے مجھے ایک حرف کی بھی تعلیم دی ہے، میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے، یا غلام بنائے رکھے۔‘‘
سوال: آپ استاد کو واقعی اتنی اہمیت دیتے ہیں یا اس بے کیف یاد سے نکل نہیں پائے؟
جواب: سکندرِ اعظم سے کسی نے پوچھا کہ تم اپنے باپ پر، اپنے اُستاد کو ترجیح کیوں دیتے ہو؟ اس نے جواب میں کہا تھا کہ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا، مگر استاد مجھے زمین سے آسمان تک لے گیا۔ باپ نے میرے جسم کی پرورش کی لیکن استاد نے میری روح کی نشوونما کی۔ میرا باپ میری فانی زندگی کا باعث ہے لیکن ارسطو میری جاودانی زندگی کا۔ خلیفہ ہارون الرشید اپنے بیٹوں کو استاد کی جوتیاں سیدھی کرتے دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا۔ اسی عباسی خلیفہ نے اپنے بیٹے کو، جبکہ وہ استاد کو وضو کروا رہا تھا، ڈانٹ دیا تھا، اس بات پر کہ ادب کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم ایک ہاتھ سے پانی ڈالتے، دوسرے ہاتھ سے استادِ محترم کا پائوں مل کر دھوتے، انھیں خود نہ دھونے دیتے۔
امام ابوحنیفہؒ ایک مرتبہ مسجد میں درس دیتے ہوئے بار بار اُٹھ کر کھڑے ہو رہے تھے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ مسجد کے باہر جو بچے کھیل رہے ہیں، ان میں میرے استاد کا بچہ بھی شامل ہے۔ جب وہ سامنے آتا ہے تو میں احتراماً کھڑا ہو جاتاہوں۔
حضرت علیؓ کا ارشاد، مبالغہ آرائی نہیں تھی۔ سکندر کی بات محض لفاظی نہیں تھی۔ امام اعظم ابوحنیفہؓ کا بار بار اُٹھ جانا، جذباتیت نہیں تھی… یہ سب لوگ دیوانے نہیں، حقیقت شناس تھے۔ استاد کے مقام سے کماحقہٗ آشنا تھے۔ اسی لیے تاریخ میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب رہے۔ استاد کسی بھی درجے، کسی بھی لیول کا ہو، استاد ہوتا ہے اور بہرحال احترام کا مستحق! بچے کے کہنے پر اس کے طرزِتدریس میں دخل اندازی، روک ٹوک اور وہ بھی بچوں کے سامنے… میں آج بھی سوچتا ہوں، یاد کرتا ہوں تو دل تاسف اور خفت سے بھر جاتا ہے۔ بچے تو شکایت کرتے ہی ہیں مگر وہ بچے ہوتے ہیں، اپنا برا بھلا نہیں سمجھ سکتے لیکن والدین تو سمجھ سکتے ہیں، انھیں سمجھا سکتے ہیں۔ پتا نہیں ماسٹرحکیم صاحب کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ یقینا کڑی گزری ہوگی، جبھی پھر میرے حوالے سے ان کی ترجیحات تبدیل ہو گئیں۔
میری تعلیمی زندگی میں، وہ ایک ایسا ہی دن تھا۔ استادصاحب نے میرا بستہ پیچھے کیا رکھوایا بس علم کا دروازہ ہی بند کرا دیا۔ اقبال نے باپ کی نظر کے فیضان کا ذکر کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بعض حالات میں، استاد کی نظر بھی شاگرد کے لیے، فیض رسانی میں وہی اثر رکھتی ہے۔ میں اپنی نادانی سے، اپنی ہی کوشش سے اس پرُتاثیر نظر سے محروم ہو چکا تھا ؎
بدلی تیری نظر کہ زمانہ بدل گیا
کی عملی شکل بنی ہوئی تھی۔ پھر اس کے بعد سکول تو جاتا رہا مگر یہ جانا، محض آنا جانا ہی رہا۔ حاضری کے رجسٹر میں تو نام بدستور موجود تھا مگر استاد کے دل میں مدھم پڑ چکا تھا۔ آمدورفت کا یہ بے کیف سلسلہ ڈیڑھ دو سال تک مزید چلا اور پھر ایک دن یہ بھی ختم ہوگیا۔
سوال: فوٹوگرافی کا شوق کب پیدا ہوا؟
جواب: میرے دل میں بہت چھوٹی عمر میں فوٹوگرافی سے لگائو پیدا ہوگیا تھا۔ کچھ بڑا ہوا تو گھر والے جو سوداسلف منگواتے، اس میں سے بچنے والے پیسے جمع کرکے میں نے ایک کیمرا لے لیا۔ ۱۹۴۵ء میں وہ میرا پہلا کیمرا تھا جو میں نے ۱۸ روپے میں خریدا۔ وہ کیمرا اب بھی میرے پاس موجود ہے۔ فلم کو ڈویلپ کرنے میں مجھے بڑی دلچسپی تھی لیکن سیکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ بہت کوشش کرکے کچھ سدھ بدھ حاصل ہوئی۔ جلالپورجٹاں میں ایک ہندوفوٹوگرافر تھا۔ میں کئی مرتبہ اُس کی دکان کے باہر جا کھڑا ہوتا اور کوشش کرتا کہ اس کا کام دیکھ کر کچھ سیکھ لوں لیکن وہ بھی بڑا کائیاں آدمی تھا۔ اس کی نظر پڑجاتی تو وہ مجھے وہاں سے بھگا دیتا۔
میں بھی دھن کا پکا تھا۔ بہت سا پیسا ضائع کرکے، بہت وقت لگا کر سیکھتا رہا۔ بالآخر طریقۂ کار سے تھوڑی واقفیت ہوگئی۔ گھر میں ایک کمرے میں کوئی روشندان یا کھڑکی نہ تھی۔ میں نے اسے ڈارک روم بنا لیا۔ فلم ڈویلپ کرتے ہوئے، وقت دیکھنے کے لیے میرے پاس گھڑی نہ تھی۔ اس کا میں نے یہ حل نکالا کہ اپنی نبض پر ہاتھ رکھ کر ۶۰ تک گنتا اور سمجھ لیتا کہ ایک منٹ ہوگیا ہے۔ آج جب میں بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ہے۔ یہ بھی کمپیوٹر استعمال کر کرکے خود ہی بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ میں نے بھی فوٹوگرافی کی بہت سی تربیت اسی طرح اپنے آپ سے لی تھی۔
سوال: یہی دن تھے جب تحریکِ پاکستان نے زور پکڑا؟
جواب: ۱۹۴۶ء میں تحریکِ پاکستان نے زور پکڑا، بڑے بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں، قصبوں، دیہات میں پھیلنے لگی اور ہمارے جلالپور میں بھی پہنچ گئی۔ مسلمان ذاتی اختلاف فراموش کرکے کامل یک جہتی سے، جوش و خروش کے ساتھ تحریک کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اباجی بھی ہر جگہ، ہر کام میں معززینِ شہر کے ساتھ پیش پیش تھے اور ہمارا گھر تمام سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ میں مسلم نیشنل گارڈز میں شامل تھا اور یاربیلیوں کے ساتھ، ہر جگہ سرگرم تھا۔ اس دوران میں ہمارے غریب خانے کو، راجہ غضنفر علی خان، نواب ممدوٹ، عبدالرب نشتر سمیت کئی دوسرے رہنمائوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔
سوال: آپ کا گھر کیا علاقے میں تحریک کا مرکز بن گیا تھا؟
جواب: پاکستان بننے کی جدوجہد جاری تھی۔ ہندوئوں کا غلبہ تھا۔ مسلمانوں کے کاروبار تھے نہ فیکٹریاں، ہم ہندوئوں سے مال لیتے اور فروخت کرتے۔ جب پاکستان بننے کی تحریک شروع ہوئی تو جلالپورجٹاں میں ہمارا گھر تحریکِ پاکستان کا خصوصی مرکز بن گیا۔ جلالپورجٹاں میں تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں جتنے بھی لوگ آتے رہے، ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہمارے گھر آتے رہے۔
سوال: سُنا ہے جلسوں میں بہت اہتمام ہوتا تھا آپ کے ہاں۔ کپڑے کے تھان بچھا دیتے تھے؟
جواب: جلالپور میں جلوس بہت نکلتے اور پوری شان سے نکلتے۔ جب کسی جلسے کا انتظام کیا جاتا تو اڈہ ٹم ٹم سے لے کر جلسہ گاہ تک، سفید کپڑے کے تھان بچھا دیے جاتے۔ معززین ان پر چلتے ہوئے جلسہ گاہ تک پہنچتے۔ یہ شاید دنیا بھر میں منفردترین استقبال ہوگا جو کیا جاتا تھا۔
سوال: تحریکِ پاکستان کے دوران آپ سری نگر بھی گئے تھے؟
جواب: جولائی ۱۹۴۷ء کے آخر میں ہم کچھ دوستوں نے سری نگر جانے کا پروگرام بنایا۔ امرتسر کی راہ سے وہاں پہنچے۔ چودہ پندرہ دن وہاں رہے۔ بڑے مزے کا وقت گزرا۔ وہاں کی جھیل دیکھی۔ ویسا نظارا پھر کہیں دیکھنے کو نہیں ملا۔ کنارے کھڑی بوٹس میں سامان بڑی نفاست سے ترتیب دیا ہوا تھا۔ کشتی کا بڑا حصہ وہ کرائے پر دیتے تھے اور چھوٹا حصہ اپنے کام میں لاتے۔ اسی میں وہ کھانا پکاتے۔ برس ہا برس بعد بھی، میں ان کشتی بانوں کے کھانے کی لذت نہیں بھلا سکا۔ لاتعداد بوٹس جھیل کے کنارے بندھی ہوتی تھیں اور چھوٹی چھوٹی کشتیاں فروٹ اور سبزی وغیرہ لے کر بوٹس کے پاس آجاتی تھیں۔ اگر کسی جگہ مثلاً مشہور سیرگاہ شاہی چشمہ جانا ہوتا تو بھی سڑک کے بجائے چھوٹی کشتی لے جاتی تھی اور یہ منظر دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھا۔ لندن، پیرس، سوئٹزرلینڈ خوبصورت ہیں مگر قدرتی ڈل جھیل ، پہاڑ اور برف پانی یہاں ہی ہیں۔ خدا کرے کہ وہ وقت جلد آئے کہ ہم پاکستانی پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ڈل جھیل دیکھ سکیں اور کشتی بانوں کے پکائے ہوئے کھانے کھا سکیں۔ جیسے اب جھیل سیف الملوک دیکھتے ہیں، حَنَّہ جھیل دیکھتے ہیں، سجی اور چپلی کباب کھاتے ہیں۔
سوال: تب تحریکِ پاکستان اپنے عروج پر تھی اور آپ گھر سے دور… سری نگر سے واپسی کب اور کس راستے سے ہوئی؟
جواب: سری نگر سے ہماری واپسی مری کے راستے ہوئی کیونکہ قیامِ پاکستان کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔ جلالپورجٹاں واپس پہنچے تو دیکھا کہ ہندوسخت سہمے ہوئے اور خوفزدہ ہیں کہ نہ جانے کیا انجام ہوگا۔ پتا نہیں مسلمان کیا حشر کریں گے۔ جب مختلف سیاسی رہنما آتے تو ہمیں یہ نصیحت کرتے کہ آپ نے کسی کو تنگ نہیں کرنا۔ امن و امان سے رہنا ہے، دنگا فساد نہیں ہونے دینا۔ ہم سب ہی مسلمان اس بات سے متفق تھے کہ ہندو رہیں یا بھارت جائیں، حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔ ہماری یہ رائے اتنی حتمی تھی کہ ایک موقع پر ہم نے دوستوں، بزرگوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ حلف بھی اٹھالیا کہ امن و آشتی سے رہیں گے اور کسی لوٹ مار میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایک روز یوں ہوا کہ جلالپور کے تمام معززین نے جلوس نکالا۔ اس کا ایک مقصد، ہندوئوں پر اپنے نیک عزائم کا اظہار بھی تھا تاکہ انھیں بے فکری ہو کہ مسلمانوں کے ان کے بارے میں کوئی معاندانہ، مخالفانہ عزائم نہیں ہیں۔ جب جلوس چلتا ہو امحلّہ اڈہ ٹم ٹم پہنچا تو معلوم نہیں یہ محض اتفاق تھا یا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ کہ ایک شخص گھوڑا بھگاتے ہوئے آیا۔ پسینے سے شرابور تھا۔ جلوس کے عین سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا ’’کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے قریب ہی ٹانڈہ کڑیاں والا کے علاقے میں ہندوئوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اِدھر آپ ہیں کہ امن کا جلوس نکال رہے ہیں۔‘‘
اس کی یہ بات تیل اور تِیلی دونوں کا کام کرنے کو کافی تھی۔ لوگ طیش میں آگئے اور طیش میں توخوفِ خدا کسی کسی کو ہی یاد رہ سکتا ہے۔ سو کہیں آگ لگائی، کہیں تالے توڑے، لوٹ مار ہوئی۔ مین بازار کو آگ لگا دی گئی۔ دو تین دن دکانیں جلتی رہیں، آگ اور دھواں کئی دن تک رہا، سارا بازار جل گیا۔ ہنگامے ہوئے اور اچھی خاصی اعتماد اور مفاہمت کی بنی بنائی فضا برباد ہو کر رہ گئی۔ ہمارے قریب ہی ہندو سنار کی دکان تھی۔ ہمارے ایک ساتھی نے دکان کا تالا کھولا، پیٹی توڑی، میں ایک طرف کھڑا دیکھ رہا تھا۔ مجھ پر نظر پڑی تو بولے ’’شیخا! کیہ تکنا ایں پیا؟ چُک، لُٹ‘‘ (شیخ! کیا دیکھ رہے ہوَ اٹھائو، لوٹو) میں سوچ رہا تھا کہ ہم نے قسم کیا اُٹھائی تھی، عہد کس بات کا کیا تھا اور یہ شخص کیا کر رہا ہے۔ تب میں بمشکل ایک سفید پوش نوجوان تھا مگر میں نے وہاں سے کچھ نہیں اُٹھایا۔ اس ساتھی کے کہنے پر بھی میں نے اپنے ہاتھ بہتی گنگا میں نہیں دھوئے، میلے ہی رہنے دیے۔ وہ گنگا میرے خیال میں اتنی میلی تھی کہ ہاتھ مزید میلے ہوجاتے۔
ان صاحب کو ہم نے دیکھا کہ چند ہی برسوں میں، بالفرض اگر ان کا نام وحید تھا تو وہ وحیدصاحب بنے، پھر سیٹھ وحیدصاحب، پھر جناب سیٹھ وحیدصاحب… یعنی ان کی چمک دمک کے کئی رنگ، کئی عالم، ہم نے دیکھے۔ اب بھی وہ ہمارے سامنے ہیں اور ناگفتہ بہ حالات میں ہیں۔ ہندوسنار کا سونا اُن سے زیادہ دیر وفاداری نہیں نبھا سکا۔ ظاہر ہے وفاداری اس کی سرشت میں ہوتی تو وہ ہندو مالک ہی کیا بُرا تھا۔ نام کے ساتھ لگنے والے سابقے، لاحقے جس تیزی سے لگے تھے، اسی تیزی سے جھڑ گئے۔
سوال: آپ نے مہاجرین کے کیمپوں میں بھی کام کیا اور مہاجرین کی آبادکاری میں بھی مدد کی؟
جواب: پاکستان بن گیا تو ہم نوجوان لوگ بزرگوں کے حسبِ ہدایت، لاہور میں مہاجرکیمپ جاتے اور مہاجرین کو جلالپورجٹاں آباد کرنے کے لیے لے آتے۔ جہاں شہر کے معززین نے ایک انجمن بنا رکھی تھی۔ وہ ان کو مکان الاٹ کرتے اور ان کی ہر طرح سے دیکھ بھال کرتے۔ مہاجرین کی آبادکاری میں کوئی مدد کرتے یا ان کو کچھ نہ کچھ ضرورت بہم پہنچاتے۔ ایک مرتبہ ہم نے دیکھا کہ واہگہ بارڈر کی طرف سے کچھ لوگ آ رہے اور مسلسل دیوانہ وار نعرے لگاتے جا رہے ہیں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’پاکستان زندہ
باد’’ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ میں نے دل میں سوچا ’’بھئی پاکستان بن گیا، آپ پاکستان پہنچ چکے ہیں… اب یہ اس قدر نعرے بازی کس لیے؟‘‘
کچھ عرصے بعد چھمب جوڑیاں محاذ پر جنگ چھڑی تو ہم یار دوست مل کر مجاہد بھائیوں کے لیے چھوٹی موٹی چیزیں لے کر جاتے۔ ایک مرتبہ ہم بارڈر کے تین چار میل اندر تک چلے گئے۔ ہمارے جوان کم سروسامان کے باوجود ڈٹے ہوئے تھے اور دشمن بھاگتا پھر رہا تھا۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک لڑاکا جیٹ آیا اور شیلنگ کرنے لگا۔
گائیڈ نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ تربیت یافتہ نہیں ہیں، واپس چلیں۔ مزید ہدایت کی کہ ۲، ۲ یا ۳، ۳ کی ٹولیاں بنا کر چلیں، جمع نہ ہوں۔ ہم اسی طریقے سے آپس میں ۲۰، ۱۵ گز کا فاصلہ رکھ کر چلے آ رہے تھے۔ فائٹر آتا تو ہم درختوں کے نیچے ہو کر چلنے لگتے۔
اس طرح بچتے بچاتے، جب ہم بارڈر پر پہنچے تو بالکل بے ساختہ ہی ہم نے نعرے لگانے شروع کر دیے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’پاکستان زندہ باد‘‘۔ مجھے بے ساختہ مہاجرین یاد آئے۔ کچھ باتیں، کچھ کیفیتیں، خود پر گزریں تو تب ہی سمجھ آتی ہیں۔ جب مہاجر بھائیوں سے ملتی جلتی صورتِ حال کا سامنا ہمیں ہوا تھا تو خود بخود ہی ہمارے جذبات پر بھی والہانہ پن اور جوش حاوی ہوگیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ چوٹ لگے تو ہائے خود ہی نکل جاتی ہے۔ ہمارے دیوانہ وار نعرے اصل میں ہماری اندرونی خوشی اور تشکر کے جذبات کا بے ساختہ اظہار تھا کہ زندگی بچ گئی، پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگئے۔
سوال: پاکستان بننے کے بعد بھی آپ کا گھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ کیا لیاقت علی خان آپ کے ہاں کبھی آئے تھے؟
جواب: پاکستان بننے کے بعد لیاقت علی خان اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہمارے گھر آئے۔ استقبال کرنے والوں میں میرے والدصاحب سب سے نمایاں ہوتے۔ میں بھی مسلم لیگ نیشنل گارڈز میں شامل تھا۔ جن لوگوں کا میں نے استقبال کیا ان میں لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ وہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو آئے تھے جبکہ ۱۶ اکتوبر کو وہ شہید ہوگئے تھے۔ مجھے ایک بات کی خوشی ہے کہ ان کے جلسے کا سارا انتظام میرے والد صاحب نے معززین شہر کے ساتھ مل کر کیا۔ جلسہ ختم ہونے پر میں نے انھیں جا کر کہا کہ آپ آئیں اور چائے پی لیں۔ انھوں نے کہا کہ بھئی میں تو پہلے ہی لیٹ ہوگیا ہوں۔ ابھی گجرات جانا ہے پھر پنڈی پہنچنا ہے۔ میں نے کہا ’’آپ دولھے کی طرح اندر جائیں اور چائے پی کر نکل جائیں بعد میں دوسرے لوگ پیتے رہیں گے۔‘‘ پھر وہ اندر آئے اور چائے پی کر چلے گئے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے وزیراعظم کو چائے پینے پر راضی کرلیا ہے۔
سوال: گجرات میں ایک اور تاریخی جلسہ بھی ہوا تھا۔ جس میں محترمہ فاطمہ جناح نے شرکت کی تھی۔ اب کے آپ کی ڈیوٹی ان کے سکیورٹی سٹاف میں لگی؟
جواب: میں ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ جلسہ رات دیر تک جاری رہنا تھا۔ تب تو گجرات سے جلالپور کا سفر یوں بھی آسان نہیں تھا مگر رات کو تو اور بھی محال تھا۔ اس لیے میرا ارادہ تھا کہ مادرِ ملت سے شروع ہی میں آٹوگراف لے کر، جلسہ سے جلدی نکل چلوں گا تاکہ دیر ہوجانے پر سفر کے مسائل کا سامنا نہ ہو۔ تبھی میں نے دیکھا کہ کئی لوگ مادرِملت کے پاس جا جا کر آٹوگراف مانگ رہے اور وہ انھیں کہہ رہی ہیں کہ جلسے کے بعد آنا۔ میں دل ہی دل میں فکرمند سا ہوگیا کہ اگر جلدی جاتا ہوں تو آٹوگراف رہ جائے گا۔ جلسے کے بعد گیا تو واپسی مشکل ہوجائے گی۔
بہرحال! اللہ کا نام لے کر آگے بڑھا اورآٹوگراف بک، قلم کے ہمراہ انھیں پیش کر دی۔ وہ مجھے اپنے باڈی گارڈز میں دیکھ چکی تھیں۔ شاید اسی وجہ سے انھوں نے انکار نہیں کیا مگر ہوا یہ کہ وہ جب لکھنے لگیں تو قلم چلنے سے انکاری تھا۔ میں سخت شرمندہ ہو کر رہ گیا۔ فوراً ہی اِدھر اُدھر سے کئی لوگوں نے اپنے اپنے قلم آگے کر دیے۔ مگر مادرِملت قلم آزمانے میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے اپنا قلم نکالا اور مجھے آٹو گراف سے نواز دیا۔
سوال: حسین شہیدسہروردی سے ملاقات کا کیا قصہ ہے؟ کیا واقعی وہ آپ کی ملاقات کے بعد مستعفی ہوئے تھے؟
جواب: کچھ لوگ میرے پاس آئے کہ وزیراعظم سہروردی نے آنا ہے تو ان کے اس نیگٹیو سے تصویر بنا دو جب سہروردی آئیں گے تو ہم ان کو یہ تصویر دکھائیں گے کہ یہ تصویر آپ کی ہے۔ تصویر میں وہ بینکاک کی ایک خاتون کے ساتھ ڈانس کر رہے تھے۔ سہروردی صاحب نے ہمارے گھر ٹھہرنا تھا۔ میں نے تصویر انھیں بنا دی اور ایک کاپی اپنے پاس رکھ لی۔ جلسہ ہو رہا تھا تو میں انتظار میں تھا کہ کوئی فوٹو دکھائے گا تو میں اس کی تصویر بنالوں گا لیکن نہ جانے کیوں کسی نے بھی تصویر دکھانے کی ہمت نہ کی۔ جلسے کے بعد جب سہروردی صاحب ہمارے گھر میں بیٹھے تھے۔
والدصاحب کہیں باہر گئے، تو میں نے اس دوران چپکے سے تصویر نکالی اور سہروردی صاحب سے کہا ’’یہ تصویر آپ کی ہے؟‘‘ وہ صوفے سے اُچھل پڑے اور کہنے لگے ’’یہ پاکستان کی نہیں ہے بلکہ بنکاک کی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ بنکاک کی تصویر یہاں دکھائیں گے۔‘‘ میں نے کہا کہ میں تو صرف تصدیق کرنا چاہتا تھا۔ خیر وہ اس پر بڑے گرم ہوئے۔ ان دنوں میں ’’روزنامہ کوہستان‘‘ کا نمایندہ بھی تھا۔ میں تصویر تو نہ بھیج سکا لیکن خبر بھیج دی۔ دوسرے دن اخبار میں سرخی یہی تھی۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان کا وزیراعظم رقص نہیں کر سکتا چاہے وہ بنکاک میں ہی کیوں نہ ہو۔ پتا نہیں یہ وجہ تھی یا پھر کوئی اور، بہرحال اگلے روز انھوں نے استعفا دے دیا۔
دلچسپ واقعات اور سنسنی خیز تفصیلات پر مشتمل ملاقات جاری تھی۔ جب ہمیں احساس ہوا کہ شیخ صاحب بہت تھک گئے ہیں اور رات بھر سو نہیں پائے اور مروت اتنی کہ ایک بار بھی نیند اور تھکاوٹ کا اظہار تک نہیں کیا، ہم نے سلسلۂ سوالات کو وہیں روک دیا۔ مصافحہ کیا، معانقہ کیا اور یار زندہ صحبت باقی کہہ کر اجازت لینی چاہی۔ بولے آپ کے آنے کا شکریہ۔ اس قدر محبت سے گفتگو کا شکریہ۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ وہی دلوں میں تعلق، محبت اور احترام ڈالتا ہے۔ اللہ کا کرم، اس کا شکر، وہ جس حالت میں رکھے ہر حالت میں شکر، نعمتیں اتنی کہ ایک عمر اور بھی ملے تو گِن نہ سکوں۔ حالانکہ کمیاں کوتاہیاں اتنی زیادہ کہ جس پر اسی نے پردہ ڈالے رکھا۔ اب اس بڑھاپے اور بیماری پر بھلا کوئی کیسے گِلہ کرے۔ جس لمحے بُلائے گا چُپ  چاپ شکر کا کلمہ پڑھتا ہوا چل پڑوں گا۔ نہ کوئی حسرت باقی نہ کسی کا لین دین اور کیا چاہیے۔ میں حیرت سے انھیں دیکھتا اور سنتا رہا۔ ایسی حیرتیں بڑا دولت مند بنا دیتی ہیں۔

 

No comments: