Tuesday, January 22, 2013

ایمان +خلوص =قاضی حسین احمد


خلوص ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس کے باعث فاصلے سمٹ جاتے ہیں ، عدم شناسائی روکاوٹ نہیں بنتی ، اور مخلص آدمی کو علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے چاہنے والے کہاں کہاں بستے ہیں ۔ خلوص کو میڈیا اور پروپیگنڈہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اور اس خلوص کے ساتھ اگر ایمان کی دولت بھی ہوتو پھر محبت کے کیا کہنے ۔ اب وہ محبت  صرف محبت نہ رہی بلکہ الحب للہ ہوگئی ۔ بھلا بتائیے جب خالق کسی کی محبت کے درمیان آجائے تو وہ محبت کتنی پاکیزہ اوراثر انگیز ہوگی ۔
محترم قاضی حسین احمد سے لوگوں کی محبت کا باعث سوائے الحب للہ کے اور کیا تھا۔۔۔! کہ لاکھوں کروڑوں آنکھوں نے اس کے جانے پر آنسو بہائے دنیا کے کونے کونے میں اس کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اوریوں محسوس ہوا جیسے کوئی اپنا چلا گیا ۔ 
ہمارے ہاں سیاست میں نفرت ومفاد اور مذہب میں مسلکیت اور عناد اس قدر حلول کرگیا ہے کہ اس قوم کے کئی دربے بہا راس کا شکار ہوگئے ۔سو سیاست میں قیادت عنقا ہوگئی اور مذہب سے اعتدال وبرداشت ۔حیرت اس پر ہے  کہ قاضی حسین احمد صاحب نے اس ناقدری اور نامانوس ماحول میں اپنے جانے کا احساس دلایا ۔
جماعت اسلامی سے مجھے لاکھ اختلاف سہی اور قاضی حسین احمد کے فیصلوں سے بھی ۔ لیکن میں قاضی صاحب کے خلوص کا کیا کروں جو مجھ سے اپنا خراج وصول کررہا ہے ۔ اور اس خلوص کی طاقت کے سامنے ایک بے بس آدمی اپنی سی کوشش کرکے کچھ لفظ جوڑ رہا ہے ۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے جنازے میں ہر مسلک کا فرد شریک ہے ۔ وہ بھی جس کا فتوی ہے کہ اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اور اسی کےبرابر میں وہ بھی موجود ہے جو اس کے ساتھ نماز ادا کرنا صحیح نہیں سمجھتا ۔ لیکن عجب عالم ہے کہ اس نے زندگی میں سب کو جوڑنے کی کوشش کی اس موت بھی سب کو کشاں کشاں ایک دوسرے کے قریب لے آئی ۔ 
میں دیکھ رہا ہوں کہ کراچی تا خیبر اس کےنماز جنازہ ادا کی جارہی ہے ۔ اور صرف یہیں نہیں ۔ بلکہ پورے ایشیا میں اور پھر یہ سلسلہ براعظم تک محدود نہ رہا بلکہ بین البراعظمی ہوگیا ۔ ہم نےشرکاءکے اعتبار سے  طویل وعریض اور کثیر وقلیل جنازے تو دیکھے اور سنے تھے لیکن ایسا کبھی نہ دیکھا نہ سنا ۔
            میرے سامنے مختلف چینلز کے مختلف اینکرز ہیں اور ہر ایک اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ ایک وہ ہے کہ جس ساری زندگی اس کی، اس جماعت کی اور اسلام کی مخالفت میں گزری لیکن اس کا دعویٰ ہے جانے والا اس کے بہت قریب تھا ۔ میں چیخ پڑا ۔۔ یااللہ ۔۔ یہ اور مرحوم کی قربت ۔ عجب معاملہ ہے ۔ لیکن کہنے والے نے کہا ہمیں اگر اسلام کا نرم رخ کسی نے دکھا یا تو وہ یہ شخص تھا ۔ورنہ ہم تو سمجھتے تھے کہ اسلامی شخصیت کا مطلب ہوتا ہے تندخو، سخت گیر اور عدم برداشت ۔ایک دوسرے اینکر کا کہنا تھا وہ بڑے دل کا مالک تھا ۔ اس نے اختلاف اور مخالفت کو جمع نہیں کیا اور اختلاف کے باوجود پوری زندگی مخالفوں کے ساتھ رہتے ،جڑتے اور ملتے ہوئے گزاری۔
میرے سامنے مختلف کالم نگاروں کے کالم ہیں اور ہرایک اس سے اپنے تعلق کو بیان کررہا ہے ۔ ان میں سے ایک جو اس شخص کے مقصد زندگی کے بالکل متضاد ہے لکھتا ہے اس کی موت کا سن کر سمجھ نہیں آتا کیا لکھا جائے ۔ میری بچی کے کانوں میں اس نے اذان دی تھی وہ اسے یاد کرتی ہے۔ ایک نے اپنے گھریلو تعلقات تک کے حوالے دیے ۔ 
ابھی میں لوگوں کے کہے اور لکھے کو سننے اور پڑھے میں مصروف تھا کہ اچانک درآمدی دھرنے ، الیکشن ،بدامنی ،غیر مستحکم حکومت اور غیر مستحکم صورتحال کے شور نے توجہ اپنی جانب مبذول کرالی میں نے سوچا اس عالم میں اس ہستی نے اپنے جانے پر سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ۔ شاید جاتے جاتے یہ پیغام دینے کےلیے اس  پرآشوب صورتحال سے نکلنے کے لیے ایمان ،خلوص ،اتحاد اوربرداشت کی ضرورت ہے ۔
میرا اس ہستی سے ایسا کوئی براہ راست تعلق نہیں ۔ میں نے تو صرف اس لیے قلم اٹھایا کہ ہم نے اس کی زبان سے اقبال کے اشعار نہ صرف سنے تھے بلکہ اسی سے لفظاً و عملاً سمجھے بھی تھے ۔اور اقبال کا فارسی کلام تو اسی سے سنا اور اسی سمجھا حیرت ہے لوگ اسے سیاست دان کہتے ہیں بہت سوں کے لیے تو شارح اقبال تھا ۔ سوچتا ہوں اب کون ہوگا جو کلام اقبال سے دلوں کو گرمائے گا؟ ، اب کون اسرارخودی  اور رموز بے خودی کے مطالب سمجھائے گا؟ ،اب کو ن سفید ریش کےنوجوان کا بدل بنے گا؟   

No comments: