Thursday, December 18, 2008

شکنجہ یہود

یہودی کسطرح امریکہ پر کنٹرول کیے ہوئے ہیں پال فنڈلے کی اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے ۔ پال فنڈلے سابق امریکی سینیٹر ہیں اور حکومتی ایوانوں میں یہودی اثرورسوخ کے بارے میں خوب خبر رکھتے ہیں ۔ ان کی اس کتاب کے ایک حصہ پیش خدمت ہے ۔ (اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم سعید رومی صاحب نے کیا ہے ۔)
شکنجۂ یہود
شاہِ دماوند
واشنگٹن مخفف ناموں کے لیے شہرت ررکھتا ہے اور کانگریس میں ''AIPAC'' سب سے زیادہ مشہور ہے ۔ اس کا ذکر ہی ان لوگوں کو چونکا دینے اور متوجہ کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے جو کہ کیپیٹل ہل پر مشرق وسطیٰ کی پالیسی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ''AIPAC'' یعنی امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی اب واشنگٹن میں اہم ترین لابی ہے ۔
۱۹۲۷ ء میں جبکہ مین چوتھی مرتبہ منتخب ہو کر کا نگریس کا ممبر تھا تو مجھے '' فارن افیئر ز کمیٹی '' مین نامز کیا گیا ۔ وقت میں اس کا نام بھی نہ سنا تھا ۔ ایک دن میں نے کمیٹی روم میں ذاتی گفتگو کے دوران اسرائیل کے شام پر حملے کو نامناسب کہا ۔ ایک سینیٹر ریپبلیکن ۔۔۔۔۔۔۔ مشی گن کے ولیم ۔ بروم فیلڈ نے مسکراتے ہوئے مجے کہا ''ذرا ''AIPAC'' کے Si Kenan تک تمہاری اس رائے کی خبر پہنچنے دو پھر دیکھنا ۔ ا س کا اشارہ I.L Kenan کی طرف تھا جو ''AIPAC'' کا ایکزیکٹو ڈائریکٹر تھا ۔ مٰن اس کے نام سے بھی اتنا ہی شناسا تھا جتنا کہ اس تنظیم کے نام سے جس کا وہ سربراہ تھا ۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ بروم فیلڈ ہنسی مذاق نہیں کر رہا تھا ۔ ''AIPAC''کو اس ذاتی گفتگو کی بھی بھنک پہنچ جاتی تھی جو ایک کانگریس ممبر مشرق وسطی کے بارے میں کرے ۔ اسرائیل پر نکتہ چینی کرنے والے سیاسی خطرات کو دعوت دیتے ہیں ۔
''AIPAC'' اسرائیلی لابی کا ایک حصہ ہے لیکن اثر اندازی کے لحاظ سے یہ اہم ترین حصہ ہے ۔ یہ تنظیم پچھلے چند برسوں میں بہت گہرائی اور گیرائی حاصل کرچکی ہے ۔یہ کہنا قطعا مبالغہ آمیز نہ ہوگا کہ مشرق وسطی کے بارے میں یہ تنظیم کیپیٹل ہل کے ہر اہم پہلو پر چھا چکی ہے ۔ ہاؤس اور سینٹ کے ممبران تقریبا بلا استثنا اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے یہ تنظیم کیپیٹل ہل پر ایک ایسی سیاسی قوت کی براہ راست نمائندہ ہے جو ان کءے الیکشن کےوقت ان کے امکانات کو بنا اور بگاڑ سکتی ہے ۔
یہ بات چاہے حقیقت پر مبنی ہو یا فسانے پر لیکن یہ بات اہم ضرور ہے کہ ''AIPAC'' نام ہی ایک قوت ۔۔۔۔۔ یعنی ایک دہشت زدہ کر دینے والی قوت کا ہے ۔ اس کا جو شایع شدہ مواد ملتا ہے اس میں نیویارک ٹائمز اخبار کا یہ جملہ ہمیشہ بطور حوالہ در ج ہوتا ہے کہ یہ تنظیم مضبوط تین ، منظم ترین اور مؤثر ترین گروپ ہے جو واشنگٹن میں خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔MccCloskey Paul N. ‘ Pete’’
سابقه كانگريس ممبر نے تو صاف صاف يوں كها هے كه كانگريس پر ''AIPAC''كي دهشت چھائي هوئي هے ۔دوسرے كئي كا نگريس ممبران نے اپنے عوامي بيانات ميں اس قدر صاف گوئي سے كام نهيں ليا ' ليكن ذاتي گفتگو ميں وه اس سے متفق هيں ۔
''AIPAC'' كا يه اثرونفوذ كچھ زياده پراني بات نهيں ' صرف چند سال پيشتر ''Conf. of Presidents of Maj. Jewish Organisations’’ کو واشنگٹن میں سب سے اہم اسرائیل نواز گروپ سمجھا جاتا تھا کیوں کہ یہ ۳۸ مختلف یہودی گروپوں کی نمائندگی کا دعویدار تھا ۔Anti-Defamation League امریکن جیوش کمیٹی اور ''AIPAC'' اس کی حاشیہ بردار تھیں ۔ مؤخر الذکر دو تنظیموں کے الگ الگ 50000 ممبران ہیں ۔انٹی ڈی فیمیشن لیگ تکنیکی طور پر ''Bani Barth'' کی ایک ذیلی تنظیم ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا 500000 ممبران ہیں ' لیکن یہ اپنے فنڈ خود اکھٹا کرتی ہے اور کافی حد تک خود مختاری حاصل کر چکی ہے ۔
واشنگٹن کے دو نمائندے American Jewish Committee کے Hyman Bookbindaer اور Anti Defam. League کے Dave Brody جو کہ اپنے اوائل عمر ہی میں ہی خاصے ممتاز تھے ' اب ''AIPAC'' سے گہنا چکے ہیں ۔ واشنگٹن میں جو لابی ہے وہ تو برفانی تودے کی نظر آنے والی چھوٹی سی چوٹی ہے ۔ اس کے اثر ونفوذ کا دارومدار امریکن یہودیوں کے ان دوسو سے زا ئد گروپوں پر ہے جو انہوں نے قومی پیمانے پر قائم کر رکھے ہیں ۔''AIPAC'' کے ایک ذمہ دار اسٹاف کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں تقریبا ۲۰کاکھ یہودی سیاسی یا فلاحی طور سے دلچسپی لیتے ہیں ' بقیہ ۴۰ لاکھ نہیں ۔ ان بیس لاکھ میں سے بھی اکثریت کا تعلق کسی حد تک رقم دینے سے ہوگا ۔
دراصل وہ لوگ جو امریکہ میں یہودیوں کی تمام تحریکات میں حصہ لیتے ہوں گے وہ اغلبا 250000 سے زیادہ نہ ہوں گے ۔اس لابی کا مقبول ترین نیوز لیٹر بنام ''Near East Report'' تقریبا ساٹھ ہزار افراد کو بھیجا جاتا ہے ۔اس تنظیم کے خیال میں تمام امریکی شہریوں کو جن کی کسی بھی قسم کی ذمہ داری ہے ' اسرائیل نواز سیاسی مفادات کی حفاظت کرنی چاہیے ۔ وہ ''AIPAC'' میں دلچسپی رکھتے ہوں یا ''Bnai Narth '' امریکن جیوش کمیٹی ' انٹی ڈی فیمیشن لیگ ' جیوش نیشنل فنڈ ' متحدہ جیوش اپیل یا اورکوئی بھی قومی گروپ ہو وہ اس کو پڑھتے ہیں ۔ یہ نیوز لیٹر اعزازی طور پر تمام ذریع ابلاغ ' کانگریس اراکین ' اہم سرکاری عہدیداروں اور دسرے خارجہ پالیسی میں ممتاز افراد کو بھیجا جاتا ہے ۔''AIPAC''کے ممبران کو یہ نیوز لیٹر ان کے 35ڈالر چندہ کے عوض بھجوایا جاتا ہے ۔
عملی طور پر تمام گروپ اسرائیلی حکومت کے اعزازی نمائندوں کے طور پر کام کرتے ہیں ۔یہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۸۱ ء میں جب کہ عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو اسرائیل نے بمبای سے تباہ کیا تو ''AIPAC'' نے وہ سرکاری اعلان ڈرافٹ کرنے میں مدد کی جس میں اس حملے کا دفاع کیا گیا تھا ۔ یہ اعلامیہ امریکی حکومت اور اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے بیک وقت جاری کیا گیا ۔
یہودیوں کی کوئی بھی قابل ذکر تنظیم اعلانیہ طور پر کسی ایسے مسئلے کی مخالفت نہیں کرتی جو اسرائیل کی حکومتی پالیسی کے مطابق ہو ۔ تھامس ۔ اے ۔ڈائن ایکزیکٹو ڈائریکٹر [''AIPAC''] پہلے تو ستمبر ۱۹۸۲ء میں صدر ریگن کے امن پلان کے بارے میں رطب اللسان تھا لیکن جوں ہی اسرائیل حکومت نے اسے مسترد کیا وہ منہ میں گھنگھنیاں ڈاال کر بیٹھ گیا ۔
اس قدر ہم آہنگی بعض دفعہ حکومتی سطح پر مزاح کا باعث بنتی ہے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ہم لوگ یہ پیش گوئی کیا کرتے تھے کہ'' اگر اسرائیلی وزیراعظم یہ اعلان کردے کہ زمیں چپٹی ہے تو امریکن کانگریس چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ایک مبارک باد کا ریزویشن پاس کردے گی ''۔ یہ الفاظ سوڈان کے سابقہ سفیر اور سفارتی اہل کار کارڈان برگس کے تھے ۔
یہودی تنظیموں کے لیے واشنگٹن میں لابی کرنا ایک بے حد سنجیدہ کام ہے ۔ ان کا اب اپنی سیاسی رہنمائی کے لیے ''AIPAC'' پر انحصار روز افزوں ترقی کررہا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر Stephin S. Rosenfeld کے بقول ''AIPAC'' اب واضح طور پر امریکہ میں ایک اہم ترین یہودی سیاسی قوت ہے ۔
''AIPAC'' کے منشورمیں ا س کا مقصد قانون سازی درج ہے لیکن اب یہ ہر اس بات میں اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرتی ہے جو اسے اپنے نقطۂ نظر سے امریکی ذرایع ابلاغ میں ' مذہبی محاذ پر یا امریکی کالج کیمپسوں میں الغرض ہر جگہ اسرائیل مخالف نظر آئے ۔چونکہ ''AIPAC'' کے ملازمین کو تنخوہ امریکن لوگوں کے جمع شدہ چندوں سے دی جاتی ہے اس لیے اسے غیر ملکی رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت رجسٹر کرانے کی ضرورت نہیں ' لیکن کام وہ غیر ملکی ایجنٹوں والا کررہے ہوتے ہیں ۔
ان سالہا ئے گذشتہ میں اسرائیل لابی امریکی نظام حکومت میں اچھی طرح گھر کر چکی ہے اور مؤثر ترین گروپ ''AIPAC'' ہے ۔ امریکی صدر کو بھی جب عرب اسرائیل تنازعہ میں کوئی نازک موڑ آجائے تو اس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے ۔

1 comment:

جاویداقبال کابلاگ said...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی یہ بات توروزروشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ میں یہودی لابی کاغلبہ ہے وہ امریکیوں کودن کہیں تو وہ دن کہیں گےوہ رات کہیں تورات کہیں گے۔ اسکاسب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کوہے کیونکہ مسلمان ہرطرف ظلم کی چکی میں پیس رہےہیں۔

والسلام
جاویداقبال