Saturday, June 30, 2012

نہ قفس، نہ آشیانہ

0 comments

مذکورہ بالا عنوان اس کتاب کا ہے جس کے مصنف محترم سہیل فدا صاحب ہیں ۔ لیکن یہاں اس کتاب کا نہیں بلکہ مصنف کا تعارف کرانا مقصود ہے ۔ اس مصرع کے ساتھ کہ نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
جہاں زیب کالج سیدوشریف (سوات) میں سالِ اوّل کا طالب علم اپنے کزن کے قتل میں دھر لیا گیا۔ بے گناہ ملزم کے والد نے تھانے دار کو ۲لاکھ روپے کی رشوت دینے سے انکار کیا تو ملزم پر بے پناہ تشدد ہوا، مقدمہ چلا اور آخر سزاے موت سنائی گئی۔ اس عرصے میں سہیل فدا نے اپنے دادا اور والدہ کی دعاؤں، مطالعے کی طرف طبعی رغبت اور (سب سے بڑھ کر) والد کی حوصلہ افزائی کے سہارے بفضلہ تعالیٰ پے درپے تعلیمی امتحانات پاس کیے۔’بین الاقوامی تعلقات‘ میں ایم اے کیا۔ ایک اپیل کے نتیجے میں وفاقی شریعت کورٹ نے سزاے موت عمرقید میں بدل دی۔ بی کلاس کی سہولت ملی، ایم اے تاریخ میں کیا۔ انگریزی ادب میں ایم اے کا نتیجہ مارچ ۲۰۱۲ء میں آنے والا ہے اور سہیل فدا کی رہائی بھی اسی سال متوقع ہے۔
کہنے کو تو یہ ایک نوعمر طالب علم کی آپ بیتی ہے مگر اس سے ہمارے عدالتی نظام، جیلوں، حوالات، پولیس کے طور طریقوں خصوصاً ’تفتیش‘ کے نام پر انسانیت سوز مظالم اور حربوں کے مثبت اور منفی پہلو سامنے آتے ہیں (زیادہ تر منفی)۔ مثبت یہ کہ اگر کوئی ملزم یا مجرم اپنی تعلیمی استعداد بڑھانا چاہے تو برطانوی عہد سے جاری قانون اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور مختلف تعلیمی امتحانات پاس کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سزا میں کمی ہوتی جاتی ہے جیساکہ سہیل فدا کے ساتھ ہوا۔
یہ مختصر آپ بیتی ملزموں، مجرموں اور خود حاکموں کے لیے بھی سبق آموز ہے۔ حاکم تو کیا سبق لیں گے، ہاں کوئی نرم دل اور دردمند شخص جیلوں اور پولیس تفتیشی طریقوں کی اصلاح کا بیڑا اُٹھائے تو اس داستان سے مدد ملے گی۔سہیل فدا قابلِ تعریف ہیں کہ انھوں نے رشوت طلب کرنے والے تھانے دار ، تشدد کرنے والے پولیس اہل کاروں، جیل میں امتحان لینے کے لیے آنے والے پروفیسر ممتحنوں اور تشدد سے اَدھ موے ملزم کو مزید ریمانڈ کے لائق (فٹ) اور تشدد کی علامات و نشانات کے باوجود اسے ہٹّا کٹّا قرار دینے والے جیل کے ڈاکٹروں کے خلاف کسی طرح کے انتقامی جذبات کا اظہار نہیں کیا (زندگی میں کامیابی کے لیے صبروتحمل کا یہ وصف غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے)۔
پانچ برس تک سزاے موت کی تلوار سہیل فدا کے سر پر لٹکتی رہی، مگر نماز اور ’’اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع‘‘ (ص ۱۰۳) کرنے سے ان کی گھبراہٹ کافور ہوجاتی۔ انھی پانچ سالوں میں سہیل نے ایم اے تک کی تعلیم مکمل کی اور بہت کچھ غیرنصابی عمومی مطالعہ بھی کیا۔ ایک جگہ بتایا ہے: معروف کمیونسٹ سبطِ حسن کی تحریروں نے میرے مذہبی معتقدات کو کچھ عرصے کے لیے ہلاکر رکھ دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے ڈر اور کال کوٹھڑی میں اس کی مدد کی شدید ضرورت بالآخر سبطِ حسن کے کچھ نظریات کی بہ نسبت کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوئی۔ (ص ۱۱۴)
۲۰۱۲ء میں متوقع رہائی کے بعد وہ تعلیمی شعبے میں خدمات انجام دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ کتاب کا حُسنِ اشاعت و اہتمام لائقِ داد ہے، مگر قیمت افسوس ناک طور پر زیادہ، بہت ہی زیادہ ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)

Sunday, March 18, 2012

ایم کیو ایم اور وینا ملک

0 comments

مذکورہ بلا عنوان کا سبب ایک لظیفہ بنا ۔ہمارے ہاں سیاست پر لکھنا یا بولنا عموما معیوب سمجھا جاتا حالانکہ اس پر سب بے تکان بولتے ہیں ۔ حضرت اکبرالہ آبادی زندہ ہوتے تو اپنا یہ شعر بدل دیتے 
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں 
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں 
 اس کی جگہ پھر یوں ہوتا 
سیاسی بات میں نے کی ہی نہیں 
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں 
 بہر حال آمدم برسر مطلب 
ہمارے پاس ایک برقی پیغام آیا جو کچھ یوں تھا کہ 
ایم کیو ایم کا بھتہ خوری کے خلاف احتجاج دیکھ کر ویناملک نے بھی فحاشی وعریانی کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ 
ہم اس خبر کو سن کر اب تک سربگریباں ہیں ۔  اور کچھ سجھائی نہیں دے رہا اگر آپ کو کچھ سجھائی دیتا ہے تو ازراہ کرم اطلاع کیجیے ۔

فرہنگ آصفیہ مفت میں

0 comments


فرہنگ آصفیہ اردو کی امہات لغات میں سے ایک ہے ۔ جس کے مرتب مولف سید احمد دہلوی صاحب ہیں ۔ انہوں نے 1326 ھجری بمطابق 1908 میں اسے منظر عام پر لایا ۔ انتہائی محنت وجانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ انہوں نے اسے مرتب کیا جسے انہوں نے خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے ۔ 
"بندہ سید احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے اپنی لگاتار تیس برس کی شبانہ روز محنت وصرف کثیر سے (اسے مرتب کیا )" 
نیز انہوں نے اپنی اس کوشش کو نظام حیدرآباد دکن کے نام سے معنون کیا اور اس کے بدلے ان کی جو قدر دانی کی گئی ان کے اپنے الفاظ میں ۔
" چناچہ حضور انور دام اقبالہ وعم نوالہ نے وہ قدر دانی فرمائی کی مبلغ پانچ ہزار کلدار کے انعام اور چارسو جلدوں کی خریداری کے علاوہ پچاس روپے ماہوار کا وظیفہ بھی تاحیات مولف مرحمت کیا "۔
یہ تھا اس کتاب کا مختصر تعارف ۔ بقیہ اہل ذوق کتاب میں ملاحظہ کرلیں ۔
یہ ضخیم کتاب چارجلدوں میں پی ڈی ایف کی صورت میں دنیائے انٹرنیٹ پر موجود ہے اور کافی عرصے سے اہل ذوق اس کو محفوظ کرکے اس سے استفادی کررہے ہیں ۔ ہم  اپنے احباب کے لیے اس کا لنگ یہاں بانٹ رہے  سو جو حاصل کرنا چاہے حاصل کرلے ۔ ممکن ہے انٹرنیٹ سے اتارنے میں مشکل ہو ۔لیکن کوشش جاری رکھیے گا ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے ۔ 

Friday, February 24, 2012

Salam Us Par - Ijtama-e-Aam 2011 Naat

0 comments
نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں بہت سے سلام کہے اور پڑھے گءے جو چند ایک مشہور ہوءے ان میں سے ایک جو بہت خوبصورت انداز میں پڑھاگیا ۔

Sunday, November 6, 2011

یوم عرفات

0 comments
وقوف عرفات حج کا رکن اعظم ہے ۔ اور اس دن پوری دنیا کے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز میدان عرفات اور اس میں دیا جانے والا خطبہ ہے ۔ اس دفعہ 25 لاکھ حجاج حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں ۔ 
خاص بات یہ ہے اس موقع پر دیا جانے والا خطبہ امت کے مسائل کاترجمان بھی ہے اور امت کے لیے ایک بھرپور پیغام بھی ۔
ہم مختلف مقامات پر دیا جانے والا اس کے خلاصے کو یہاں پیش کررہے ہیں ۔
انہوں نے فرمایا :
عالم اسلام مشکلات سے دوچار ہے، فتنوں اور مصیبتوں سے بھاگنا نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہی کی طرف جانا گناہ عظیم ہے،درپیش مسائل کے حل کیلئے مسلمانوں کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ عرفات کے میدان میں خطبہ حج دیتے ہوئے مفتی اعظم  کا کہنا تھاکہ مسلمانوں اللہ تعالی سے پکی اور سچی توبہ کرلو،بہت خوش نصیب ہو جو آج اللہ کی بارگاہ میں حاجی بن کر موجود ہو، ہر انسان کی موت کا وقت قریب آنے والا ہے،اس دن کو یاد کرو جب جنت اور جہنم کا فیصلہ ہوگا، اے مسلمانوں عدل و انصاف کو اپنے سے دور نہ ہونے دینا،مفتی اعظم نے کہا کہ علمائے کرام اپنی ذمہ داری بخوبی انجام دیں،غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے حکمت سے کام لیں، تمام ٹی وی چینلز حق اور سچ کی بات کریں، اللہ اور رسول کی رضا میں ہی ہماری رضا ہونی چاہیئے، ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ ہم ایک آدم کی اولاد ہیں، جو اللہ کے احکامات کے تابع نہیں ہوگا،خسارے میں رہے گا،اے ایمان والو،اللہ کے احکامات کو مضبوطی سے تھام لو،کسی پر ظلم نہ کرو،کسی سے زیادتی نہ کرو،عورتوں کی عزت کرو،بے ہودگی سے پیش نہ آ،خود کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائو۔
مفتی اعظم نے کہا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے،اس میں تمام مسائل کا حل ہے،ہمیں چاہیئے کہ نیک عمل کریں اور اللہ کی بندگی اختیار کرلیں، بنیادی زندگی ختم ہونیوالی ہے،آخرت کی تیاری کرنی چاہیئے،  حج سے مسلمانوں کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں،قرآن پاک تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، تمہیں اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے،اللہ سے ڈرو اور تمام معاملات میں اسی سے رجوع کرو،  دین کو ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے،تمہارا جینا تمہارا مرنا اللہ کیلئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دان امت مسلمہ اور اپنی قوم کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے سے تعاون کرین۔ اسلام کسی بھی قسم کی دہشتگردی کی اجازت نہیں دیتا فساد پھیلانے والوں کیلئے اسلام میں سزائیں مقرر ہیں اسلام میں کسی کو ناحق قتل کرنا منع ہے شریعت کے نفاذ سے ہی تمام معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے اسلام انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اخلاقیات کو ترجیح دیتا ہے عالمی میڈیا اسلام کا تاثر خراب کرنے کے درپے ہے مسلمانوں کے عقائد بگاڑنے کیلئے دشمن میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں فحاشی اورر عریانی عروج پر ہے تاجر گراں فروشی کم کریں کاروباری حضرات سود سے پاک معیشیت کی تشکیل میں کردار ادا کریں مسلمان تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دیں، جدید ٹیکنالوجی بھی حاصل کی جائے لیکن دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے احکامات خداوندی کی ذرا بھی خلاف ورزی ہوئی تو تمام تر کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا نوجوان کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔
یہاں سے اس خطبے کو سنا بھی جاسکتا ہے ۔

مور ۔۔۔ پھولوں بھرا

0 comments




اس تصویر ہر کیا تبصرہ کیا جائے بس دیکھیے اور سر دھنیے ۔

Thursday, August 25, 2011

شب قدر

0 comments
رمضان المبارک اپنی تمام سعادتوں کو سمیٹتا ہوا رخصت ہونے کو ہے ۔ اور جاتے جاتے شب قدر کا عظیم تحفہ دیتے ہوئے جارہا ہے ۔ کون ہے جو اس تحفے کی قدر کرے ۔
شب قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ۔ [لیلۃ القدر خیر من الف شھر ]
آئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں پر نادم ہوں ۔ توبہ کریں ۔ کہ اس ذات باری تعالیٰ کا حکم ہے ۔ توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا ۔
آئیے ۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کے حضور دعاکریں ۔کہ 
زہر امروز کو شیرینیٔ فردا کردے
وہ جنہیں تاب گراں باریٔ ایام نہیں 
ان کی پلکوں پہ شب وروز کو ہلکا کردے 

آئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عہد کریں ۔۔۔۔ کہ ہم اس امت کے لیے خیر کا باعث ہوں ۔ 
یااللہ ۔۔۔۔۔ یارب العالمین ۔۔۔۔۔ ہمیں بخش دے ۔۔۔۔ ہم سے درگزر فرما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم میں محبت و الفت پیدا فرما ۔۔۔۔۔۔ نفرت کو دور فرما ۔۔۔۔۔۔ بغض اور کینے سے نجات دے ۔۔۔۔ تعصبات سے ہمیں دور رکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ملک وملت کی حفاظت فرما ۔۔۔۔۔۔ ہم پر اپنا رحم وکرم فرما ۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین ۔

نیت اور خلوص نیت (چند پہلو)

·         عمل  کااولین مرحلہ نیت یا ارادہ کی تشکیل ہے ۔ نیت جتنی سنجیدہ ، شدید اور پختہ  ہوگی عمل اتنا ہی جلد اور بہتر وقوع پذیر ہ...

Search This Blog

Instagram

Sidebar Menu

Slider

Advertisement

About Me

Disqus Shortname

Facebook

Recent Posts

Comments system

Home Ads

Popular Posts