Monday, October 13, 2008

موجودہ حالات اور موجودہ حکومت

0 comments
یہ بات تو ٹھیک ہے کہ موجودہ حالات موجودہ حکومت کے پیدا کردہ نہیں ہیں لیکن یہ بات اتنی ہی غلط ہے کہ موجودہ حکومت اسے برقرار رکھنے کی ذمہ دار نہیں ۔ موجودہ حکومت کو تقریبا آدھ سال مکمل ہونے کو آرہا ہے لیکن کہیں سے نظر نہیں آتا کہ یہ حکومت نئی ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسٹر پرویز مشرف ہی کہیں چھپے بیٹھےاسے کمان کررہے ہیں ۔
بادی النظر میں بھی جوکچھ ہمیں نظر آرہا ہے وہ انتہائی روح فرسا ہے پورا پاکستان سلگ رہا ہے صرف جنگ اور خود کش
حملوں کی آگ سے نہیں بلکہ مہنگائی ، بدامنی اور ناانصافی کی آگ سے بھی وزیرستان اور دیر میں اگر بچے اپنوں اور غیروں کی بمباری سے ہلاک ہورہے ہیں تو یہاں بھوک سے بلکتے بچوں کی مائیں خود کشیاں کررہی ہیں ۔
لیکن موجودہ حکومت ۔۔۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلا جب سارہ پالن کا ہاتھ ہاتھ میں ہو تو کس کافر کو چیختا پکارتاپاکستان یاد آئے گا ۔ حقیقت یہ ہے موجودہ دورہ حکومت میں حالات بگڑے ہی ہیں اور قوم سے اس بڑا مذاق اور کیا ہوگا کہ عوام پر گرنے والے ہر بم کو سابقہ حکومت کی کارستانی قرار دے دیا جائے۔ (بقیہ) ہ

Monday, August 18, 2008

خداحافظ

0 comments
ليجيے ایک اور آمر وقت کا وقت پورا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے صدرمحترم نے ملک وقوم کی خاطر ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئےصرف عوام کی خاطر اور اس ملک پاکستان کی فلاح وبہبود اور ترقی کی خاطر ہماری جان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
حسبِ سابق اس دفعہ بھی پوری قوم نے اسی طرح جشن منایا جس طرح اس نے آٹھ سال قبل نوازشریف کی برطرفی کے موقع پر منایا تھا ، ہاں البتہ اس مرتبہ فرق صرف یہ ہے کہ میاں نوازشریف بھی اس جشن میں شامل ہیں ۔
مجھے اس واقعہ پر خوشی تو ہے کیونکہ میں بھی تو آخر پاکستانی ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں کچھ پریشان بھی ہوں شاید اس لیے کہ میرا دماغ قومی دماغ سے کچھ زیادہ گھومنے لگ گیا ہے ۔مجھے پریشانی آئندہ کے منظر نامے پر ہے کہ اب کیا ہوگا ۔آیا دوبارہ جمہوریت اور آمریت کے دو پاٹوں میں پستے رہیں گے یا ہمارا یعنی وقوم کا کچھ بھلا بھی ہوگا۔۔۔۔۔
صدرصاحب بلکہ سابق صدر صاحب پرویز مشرف صاحب اپنے انجام کو پہنچے ۔۔۔۔۔ لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ کو معلوم ہے کہ اب سب سے بڑا مسئلہ موجودہ حکومت کے لیے ان کی حفاظت کا ہے ۔ ویسے عجیب بات ہے کہ پہلے یہ حکومت ان کے نہ جانے پر پریشان تھی اب ان کے جانے پر پریشان ہے ۔ میں اپنے ناقص مطالعے اور تجربے کی روشنی کہ سکتاہوں کہ ان کا انجام بھی ان کے پیش رؤوں سے کچھ اچھا نہ ہو گا ۔ تاریخ پر نگاہ دوڑائیے اس ملک اور اس ملت سے بے وفائی اور غداری کرنے والوں کا کیا انجام ہوا مثلاً مجیب الرحمن ، ذوالفقار علی بھٹو(اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود)۔
بہر حال جو ہوا اللہ کی مشیت سے ہوا اور جو ہوگا اسی کے ھکم سے ہوگا ۔
لیکن پھر وہی کہ قوم کا کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کسی مشہور مغربی مفکر کا قول ہےکہ بری جمہوریت کا حل اچھی جمہوریت ہے نہ کہ آمریت۔
لیکن پاکستان کے لیے یہ اچھی جمہوریت کسی عنقا سے کم نہیں ساٹھ سال سے زائد کا عرصہ ۔۔۔۔۔ پانچ دس آمریتیں اور پانچ دس جمہوریتوں کا ذائقہ چکھنے کے باوجود پوری قوم ہنوز اچھی جمہوریت سے اسی طرح نابلد ہے جتنی وہ پہلے دن تھی ۔۔
سوال یہ ہے کہ اچھی جمہوریت کیا ہےاور وہ کب آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میرا یہ سوال نوجوانوں سے ہے ۔ کیوں کہ پاکستان کو آزاد ہوئے چالیس سال سے زائد ہو گئے ہیں اور اس عرصے میں قوم کی ذمہ داری دوسری نسل پر آپڑتی ہےپچھلے لوگوں نے جو کیا سو کیا ۔۔۔۔۔ اب جو کرنا ہے وہ ہمیں کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔

Friday, August 15, 2008

اقوال زریں

1 comments
محترم دوستو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تاخیر سے آمد پر معذرت!
کچھ عرصے قبل میں نے اپنے ریکارڈ میں تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین کے کچھ خوبصورت اقوال پائے میں نے سوچا آپ کو بھی ان پرحکمت اقول سے استفادے میں شریک کرلیا جائے ۔
نیکی کو پھیلانا بھی بہت بڑی نیکی ہے بلکہ اصل نیکی یہی ہے سو آپ کے اس طرح کا پرحکمت مواد ہو تو اس میں ہمیں ضرور شریک کریں ۔



Thursday, July 10, 2008

خوشی

0 comments

خوشی ، مسرت ، آسانی ، سہولت اور اس طرح کے کئی الفاظ ہیں جن کا پیچھا کرنے انہیں حاصل کرنے اور اسے اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے ہم لوگ مسلسل شب وروز مصروفِ عمل رہتے ہیں ۔ لیکن حیرت ہے کہ ہر شخص ان چیزوں کی کمی یا نا ہونے کا شکوہ کرتا دکھا ئی دیتا ہے
سوال یہ کہ اتنی زیادہ جدوجہد کے باوجود ان کا حصول ممکن کیوں نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ یہاں تک کہ انسان اسی بے چینی ، حسرت ویاس کے عالم میں اس جہان سے کوچ کر جاتا ہے ۔
دراصل یہاں مسئلہ خوشی کا نہیں بلکہ تصوّر خوشی کا ہے ۔ خوشی اور مسرت کی حقیقت اس سے بالکل جدا ہے کہ جسے لوگ خوشی سمجھے بیٹھے ہیں ۔
اس کی مثال ہم یوں لے سکتے ہیں کہ کہ کوئی آگ کو برف سمجھ کر اس سے ٹھنڈک حاصل کرنا چاہے تو آگ اسے جلائے گی ہی ۔۔۔! نہ کہ ٹھنڈک دے گی ۔ اور دنیا اسے پاگل سجھے گی ۔
خوشی کا معاملہ تو سراسر روحانی ہے اور ہم نے مادی فوائد کو خوشی کا نام دے رکھا ہے ۔ ہم اپنے اس تصور سے خوش ہوتے بھی ہیں لیکن ہمارے چہروں سے بے اطمینانی چھلک رہی ہوتی ہے ۔ کیونکہ کسی مادی سبب سے ہم مسکرا اور ہنس تو لیتے ہیں لیکن ہماری یہ ہنسی اور مسکراہٹ فقط اس چیز کا ردعمل ہوتی ہے جو کہ ہمارے سامنے ہے یا جس کے تصور میں ہم کھوئے ہوئے ہیں جیسے ہی وہ وجۂ مسکراہٹ ختم ہوتی ہے ہمیں دوبارہ بے اطمینانی اور بےکیفی کی کیفیت ڈھانپ لیتی ہے ۔
خوشی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ! ایک احساس ہے ۔
ایک ایسا احساس جو آدمی میں ایسی کیفیات رونما کرتا ہے کہ جس کے سبب وہ خود کو ہر قسم کے ذہنی دباؤ سے آزاد سمجھتا ہے ۔
اس طرح یہ کیفیات جس عمل سے رونما ہوں وہ حصولِ خوشی کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں ۔ چاہے ان سے یہ کیفیت عارضی طور پر رونما ہو یا مستقل طور پر ۔
اب خود بتائیے کہ کون عارضی طور پر خوش رہنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔! تمام عالم دائمی خوشی کے نسخے تلاش کرتا پھر رہا ہے اور دنیا ایسے عطائیوں کے پیچھے بھا گ رہی ہے جو عارضی مسرتوں کے حصول کے طریقوں کو دائمی مسرت کا لیبل لگا کر فروخت کر رہے ہیں ۔
( جاری )

Saturday, June 21, 2008

حقیقی مسئلہ۔۔۔۔۔۔ ؟

0 comments
آپ کا حقیقی مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ ؟ اس بات کے جواب میں ہر شخص ایک دفتر کھول کر بیٹھ جائے گا کہ ''حضرت ایک ہو تو بتائوں ۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی الٹ ہے''او
اس سوال کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں ۔ مذکورہ بالاجواب دینے والےکے بارے میں یہ رائے قائم کی جائے گی کہ قوم اور ملت اس کے نزدیک ثانوی چیز ہے اس کے نزدیک اولیت اپنی ذات کو حاصل ہے۔
یہ بات عوام کاالانعام تک محدود ہو تو برداشت بھی کی جاسکتی ہے لیکن جب یہ خواص کا وتیرہ بن جائے تو اس قوم کا ہر شخص اور من حیث المجموع وہ قوم مجموعۂ مسائل بن کر رہ جاتی ہے ۔
قوم اجتماع کا نام ہے جبکہ مذکورہ بالا سوچ افتراق کی علامت ہے ۔اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہم من حیث القوم کہاں پر کھڑے ہیں ۔
ہمارے اخص الخواص ،اس ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے اور خوب نفع سمیٹنے کے بعد ملک میں رہنا پسند نہیں کرتے ۔ہمارے لیڈرانِ قوم اپنے مسائل کی وجہ سے مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔صدر سے لیکر یوسی ناظم تک سب اپنا الو سیدھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
سوال یہ کہ قوم کہاں ہے ؟ ہمیں تو یہاں فقط افراد کا کچھ مجموعہ نظر آرہا ہے ۔
(جاری)

Wednesday, June 18, 2008

جمہوریت

0 comments
اس وقت اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے جمہوریت کی وجہ سے ہورہا ہے ۔ ہر کام کی تہہ میں جمہوریت کار فرما نظر آتی ہے ۔ قاتل کو اب قاتل جمہوریت کہا جاتا ہے جبکہ شہید اب شید جمہورت کہلائے جاتے ہیں عدلیہ کی بحالی جمہوریت کے ذریعے ہوگی ، عدلیہ کی قاتل جمہوریت ہے ۔جمہورت کے آنے سے چیزیں سستی ہوں گی ، جمہوریت کے بعد چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں ،نقلی جمہوریت ، اصلی جمہوریت ،غلام جمہوریت ، آزاد جمہوریت جبکہ اقبال نے کہا تھا کہ
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جا تا
جمہوریت کی آواز میں اب بھی کچھ دم خم نظر آتا ہے لیکن یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آدمی موت سے پہلے زندگی کے لیے جدوجہد کرے ۔ تاریخ پاکستان ہمارے سامنے ہے پری تاریخ میں ہمیں کہیں جمہوریت کا فائدہ نظر نہیں آیا اور اگر ہمیں آج کل اگر کہیںسے فائدہ مل جاتا ہےتو وہ جمہوریت کا فائدہ نہیں بلکہ آمریت کی انتہائی قبیح صورت کے مقابلے میں کچھ قابل برداشت نظر آتا ہے ۔

Saturday, June 14, 2008

گھر

0 comments
ایک مستحکم معاشرے اجتماعیت کے دائرے میں گھر وہ بنیادی اکائی ہے کہ جو معاشرے کے استحکام کی اساس ہے لہذا جس معاشرے میں یہ بنیادی اکائی جس قدر مضبوط اور مستحکم ہو گی وہ تمدنی زوال کے باوجود اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے میں بہت جلد کامیاب ہو سکتا ہے ۔ تنزل اور زوال کے باوجود اس معاشرے میں اقدار کی بالادستی اور ان کا احترام قائم ہو گا ۔ اخلاقیات کے اصولوں کی پاسداری کی جاتی رہے گی اور معاشرے میں قلبی سکون اور ٹھراؤ کی کیفیت رہے گی ۔
اس سارے پس منظر میں گھر وہ مقام ہے کہ جو سب سے زیادہ توجہ چاہتا ہے جو سب سے زیادہ وقت اور ذہن کا بڑا حصہ اپنے لیے وقف کر دینے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ ایک گھر کا نظام درحقیقت کسی ریاست کے نظام سے کسی حیثیت سے بھی کمتر نہیں۔
اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کے بنیادی اور اہم مسائل کو فقط چند اصول بتا کر حل کر دیتاہے ۔ سیاسیات ،معاشیات معاشرت اور دیگرپہلؤوں کے بارے میں قرآن نے چند اصول بتا دیے ہیں ۔
بہت سے بڑے اور اہم معاملات کا حل اسلام نے فقط حیثیات کے معیار کو بتلا کر نکال دیا ہے ۔ ہم آج بھی اگر قرآن کے اس اصول کو اپنے پیش نظر رکھیں تو زندگی کے بیشتر مسائل کا حل ہمیں بآسانی مل سکتا ہے ۔

نیت اور خلوص نیت (چند پہلو)

·         عمل  کااولین مرحلہ نیت یا ارادہ کی تشکیل ہے ۔ نیت جتنی سنجیدہ ، شدید اور پختہ  ہوگی عمل اتنا ہی جلد اور بہتر وقوع پذیر ہ...

Search This Blog

Instagram

Sidebar Menu

Slider

Advertisement

About Me

Disqus Shortname

Facebook

Recent Posts

Comments system

Home Ads

Popular Posts