Friday, February 22, 2013

انتہائے جہالت


جہالت کا علاج علم ہے لیکن کیا یہ دوا ہر موقع ، مقام اور کیفیت میں زود اثر ہے ۔۔۔۔!؟  میرا خیال ہے جہالت کے بھی بہت سے مراحل ایسے ہیں کہ مریض جہالت ناقابل علاج ٹھہرتا ہے اور دوائے علم اس کے سامنے بے بس۔
اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کون سے ایسے مراحل ہیں کہ جب معلوم ہو کہ مریض جہالت اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب دوائے علم کو زحمت نہ دی جائے ؟
کل جو واقعہ میں نے ہوتے دیکھا ۔۔۔ اس کی روشنی میں ،میں یہ کہوں گا کہ جب مریض جہالت اپنے پوشیدہ معاملات ، گھریلو تعلقات ، ازدوجی چپقلش اور اس بنا پر ہونے والی رنجش  ۔۔۔ الغرض یہ کہ جن معاملات کو اللہ رب العزت نے پردے اور چاردیواری میں رکھا ہے اسے گلی ،محلے اور بیچ چوراہے میں لاپھوڑا جائے تو پھر ۔۔۔۔ مریض جہالت کا کیا علاج۔۔۔۔۔!
کہا جاسکتا ہے کہ جناب اگر فریق ثانی اس کا سبب ہو تو۔۔۔۔۔!؟
تو پھر ارسطو یاد آتا ہے کہ جب اس نے ایک شخص کو جاہل کے ہاتھوں بھرے بازار میں رسوا ہوتے دیکھا تو کہا ۔'' میں اسے عقلمند سمجھتا تھا لیکن میرا خیال غلط نکلا ۔ اگر یہ عقلمند ہوتا تو معاملہ وہاں تک پہنچنے ہی نہ دیتا کہ ایک جاہل اسے بھرے بازار میں رسوا کرتا ۔؛؛
کل ہم نے جو اپنے پڑوس میں ہوتے دیکھا اللہ ایسے مناظر دوبارہ نہ دکھا ئے ۔ ۔۔۔۔ کوئی کہے کہ میاں خوش رہو کہ اللہ نے تمھارے ساتھ ایسا نہ کیا ۔۔۔۔ ہم کہیں کہ اس بات پر خوش ہوا جائے یا اس کا ماتم کہ ۔۔۔ آپ بے بسی سے سب دیکھتے رہے ۔۔۔۔ یا اس کا غم کہ پڑوس جلا اور چھپ کر گھر بیٹھ رہے ۔۔۔۔۔ یا اس کا افسوس کہ ہم تماش بینوں میں شامل تھے ۔۔۔
پاس پڑوس میں آگ لگے تو اپنا گھر بھی جلتا ہے
اللہ رب العزت انہیں ہدایت اور ہمیں حوصلہ دے ۔ آمین

No comments: